ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار میں نیشنل ہائی وے کی توسیع میں نیا رخنہ،گاؤں والوں کی طرف سے بائی پاس کا مطالبہ؛افسران کان دھرنے تیار نہیں!

کاروار میں نیشنل ہائی وے کی توسیع میں نیا رخنہ،گاؤں والوں کی طرف سے بائی پاس کا مطالبہ؛افسران کان دھرنے تیار نہیں!

Sat, 15 Apr 2017 10:40:42    S.O. News Service

کاروار، 14؍اپریل (ایس او نیوز)ایسا لگتا ہے کہ نیشنل ہائی وے66 کی توسیع میں کاروار کے علاقے میں ایک نیا رخنہ پید اہوگیا ہے ، کیونکہ یہاں کے کچھ گاؤں والے موجودہ ہائی وے کے چار لین توسیعی منصوبے کی مخالفت پر اتر آئے ہیں اورمطالبہ کر رہے ہیں کہ موجودہ ہائی وے کوچار لین بنانے کے بجائے منصوبے میں ترمیم کرتے ہوئے بائی پاس کا راستہ اختیا رکیا جائے۔

موجودہ سڑک کو فور لین میں تبدیل کرنے کی مخالفت کرنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ اس منصوبے پر عمل کرنے سے سینکڑوں افراد کو دکان، مکان ، کھیتی باڑی اور دیگر جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔جبکہ اگر افسران بائی پاس کا طریقہ اپنائیں گے تو محض چند ایک مکانات کا نقصان ہوگا ، اور جنگلاتی زمین کا استعمال ہوجائے گا ۔ عوام چاہتے ہیں کہ آمدلّی نامی دیہات سے کاروار کے قریب پتنجلی اسپتال تک بائی پاس بنایا جائے۔

منگلوروسے ممبئی تک جانے والا نیشنل ہائی وے66کاروار تعلقہ کے آمدلّی، توڈورو، آرگا، چینڈیا اور دیگر دیہاتوں سے ہوکر گزرتا ہے۔دو لین کی اس قومی شاہراہ کی توسیع کے لئے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا نے پرائیویٹ کمپنی کو ٹینڈر کے ذریعے ٹھیکہ دیا ہوا ہے۔ اس پر یہاں کے دیہاتوں میں عوام کی طرف سے احتجاج کیا جانے لگا۔مخالفت شروع ہونے پرI NHAنے گاؤں والوں کو یقین دہانی کی تھی کہ وہ اس سلسلے میں سروے کرکے جائزہ لیں گے۔ لیکن ابI NHAکے افسران کا کہنا ہے کہ وہ بائی پاس کے بجائے اصل منصوبے کے مطابق موجودہ ہائی وے کی توسیع کا کام آگے بڑھائیں گے۔ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول کو لکھے گئے ایک مراسلے میںI NHAنے بتایا ہے کہ بائی پاس کرنے کے لئے جنگلاتی زمین پر سے گزرنا ہوگا جس کی اجازت محکمہ جنگلات سے لینی ہوتی ہے اور اس میں بڑا لمبا عرصہ لگتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ نجی زمینات بھی اس راستے میںآتی ہیں اور ان جائیدادوں کے مالکان اصل منصوبے میں کسی بھی طرح کی ترمیم کرنے کی مخالفت کررہے ہیں اور نئے منصوبے کے لئے سروے کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔اس لئے ہائی وے افسران نے ضلع انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق توسیعی کام کو آگے بڑھانے اور اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں تعاون کرے۔

کاروار انکولہ حلقے کے ایم ایل اے ستیش سائل نے موجودہ سڑک کے مخالفین اور احتجاجیوں کی حمایت کی ہے۔اور کئی دفعہ احتجاجی مظاہروں کی قیادت بھی کی ہے۔ حالات نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے اس کے تعلق سے ایم ایل اے کو ابھی اس کا علم نہیں تھا کیونکہ وہ اسی مسئلے پر گفتگو کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتین گڈکری سے ملنے دہلی گئے ہوئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر موصوف نے ان کی تجویز پر بڑا مثبت رد عمل دیا ہے اور افسران کے ساتھ ایک بار اور میٹنگ منعقد کرنے کی بات کہی ہے، تاکہ بائی پاس کے تعلق سے امکانا ت کا جائزہ لیا جاسکے۔مسٹر سائل کا کہنا ہے کہ ان دیہاتوں کے عوام پہلے ہی سے بحریہ اڈے (سی برڈنیول پروجیکٹ) کے لئے اپنی زمینیں اور جائیداد کھوچکے ہیں۔ اور ا ب دوبارہ نیشنل ہائی وے کے لئے ان سے زمینیں طلب کی جارہی ہیں۔ اس لئے وہ ہر موڑ پر ان احتجاجی عوام کا ساتھ دیں گے۔


Share: